تعارف حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ
نام ونسب: آپ کااسم و نسب ہے۔امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابتؒ بن نعمان بن مرزبان تیمی،کوفیؒ،بعض علما،نے دادا کا نام زوطیٰ بن ماہ بتایا ہے۔وجہ یہ ہے کہ قبل اسلام نعمان کا نام زوطیٰ بروزن موسیٰ یابروزن سلمیٰ تھااور مرزبان کا نام ماہ تھا جو فارس کے کسی علاقہ کے حاکم تھے،فارسی میں مرزبان حاکم یا امیر کو کہتے ہیں یہ بات بے اصل ہےکہ زوطیٰ زُط کا معرب ہےجس کےمعنی ہندوستانی جاٹ یاسندھی چٹ کےہیں،نعمان بن مرزبان کابل کےاعیان واشراف میں بڑی فہم و فراست کے مالک تھے،حضرت علیؓ کے دورِخلافت میں اسلام قبول کرنے کے بعد کوفہ چلے آئے اوریہیں آباد ہو گئے،اس خاندان کا حصرت علیؓ سے خصوصی تعلق تھا۔
امام صاحب کے پوتے اسمعیل کا بیان ہے کہ میرا نام اسمعیل بن حماد بن نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان ہے، ہم لوگ ابنائے فارس یعنی فارس النسل ہیں،واﷲ ہمارا خاندان کبھی کسی کا غلام نہیں تھا۔میرے دادا ابوحنیفہ ۸۰ ھ میں پیدا ہوئے،پردادا ثابت بچپن میں حصرت علیؓ کی خدمت ہیں گئے،آپ نے ان کے اوران کی اولادکے حق میں خیروبرکت کی دعا فرمائی،ہم سمجھتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے حصرت علیؓ کی یہ دعا قبول فرمائی ہے۔نعمان بن مرزبان نے نوروز کے جشن پر حصرت علیؓ کو فالودہ پیشں کیا،تو آپ نے کہا ہمارا ہر دن نو روز ہے، ایک روایت کے مطابق یہ واقعہ جشن مہرجان کا ہے۔
قبیلہ بنی تیم اﷲبن ثعلبہ سے حلف ووِلاء:
یہ خاندان کوفہ کے ایک معزز وشریف قبیلہ بنی تیم اﷲبن ثعلبہ سے ولاء اور دوستانہ تعلق کرکے تیمی کی نسبت سے مشہور ہوا،اس قبیلہ کے افراد نجابت و شرافت کی وجہ سے مصابیح الظلم یعنی ظلمتوں کے چراغ کہلاتے تھے۔
امام صاحب کے تلامذہ میں ابوعبدالرحمٰن بن عبداﷲ بن یزید مقری مکی سوالی آل عمر متوفی رجب ۲۱۲ ھ بڑے زبردست مقری و محدث ہیں،وہ بصرہ یااہوازکے کسی علاقہ کے رہنے والے تھے،الآثار میں ان کی زبانی نقل کیا ہے کہ میں جب امام ابوحنیفہ ؒ کی خدمت میں گیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ میں یے کہاکہ میں ایسا شخص ہوں جس پر اﷲ تعالیٰ نے اسلام کی توفیق دےکر احسان کیاہے۔اس پر امام صاحب نے کہا:تم ایسا نہ کہو،بلکہ ان قبائل میں سے کسی کی ولاء میں آجاؤ۔پھر ان کی طرف اپنی نسبت کرو،میں نےبھی ایسا ہی تھا۔
امام طحاویؒ کے تلمیذ حافظ ابن ابی عوام نے فضائل ابی حنیفہ واصحابہ میں مزید لکھا ہے کہ امام صاحبؒ نے مزید کہا کہفو جدتھم حی صدق یعنی میں نے ان کو سچا پکاپایا۔امام صاحبؒ کے خاندان کے علاوہ بنی تیم اﷲکی نجابت و شرافت کی وجہ سے متعدد علمی اور دینی خاندان اور افرادان سے حلف وولاء کی نسبت رکھتے تھے،ان ہی میںمشہورامام قرأت حمزہ(ابو عمارہ حمزہ بن حبیب بن عمارۃ زیات کوفی تیمی متوفی ۱۵۶ھ بھی تھے جن کے بارے میں امام صاحب ؒ کا قول ہے۔
﴿حمزہ نے لوگوں کو قرآن اور فرائض صا صل کرنے پر مجبورومغلوب کر دیا﴾
ان تصریحات سے معلوم ہو گیا کہ امام صاحبؒ کا خاندان بنی تیم اﷲ کا مملوک اور غلام نہیں تھا،نہٱن کے ہاتھ پر مسلمان ہوا تھا۔بلکہ عجم کے نو مسلم خاندانون کی طرح یہ خاندان بھی ایک شریف قبیلہ سے رشتہء وِلاءقائم کرکے اس کی طرف منسوب ہوا، اوریہ روایت بے اصل ہے کہ امام صاحبؒ کے والدکابل سےگرفتارکرکے کوفہ لائے گئےجہان قبیلہء تیم اﷲ کی ایک عورت نے ان کو خرید کر آزاد کیا،یا ان کے داد اس قبیلہ کے غلام تھے،اسی طرح یہ قول بھی بے اصل ہے کہ امام صاحبؒ خالص عربی النسل تھے ۔غالناًیہ بات جواب آں غرل کے طور پر امام صاحبؒ کو عجمی غلام کہنےوالوں کے جواب میں کہی گئی ہے۔
پیدائش اور بچپن
امام صاحبؒ کی ولادت خلیفہ عبدالملک بن مروان کے دور میں ۸۰ھ میں کوفہ کے مشرق علاقہ میں ہوئی،اس وقت کوفہ کی آبادی پر ۶۷-۶۶ سال گزر چکے تھے،صحابہ کرام اور تابعین عظام کی کثرت تھی ،جن کے دم قدم سے کوفہ کا کوچہ کو چہ دارالعلم بنا ہوا تھا،ہر طرف دینی اور علمی مجلسیں اور طبقے قائم تھے،اسی ماحول میں امام صاحبؒ نے ہوش سنبھالا،خاندانی زریعہ معاش ریشمی کپڑے کی تجارت تھا، کوفہ کی جامع مسجد کے قریب حضرت عمروبن حریثؓ کے بابرکت مکان میں دُکان تھی۔
صحابی رسولﷺ سے ملاقات
بچپن میں امام صاحبؒ نے مکہ مکرمہ میں ایام حج میں ایک صحابی عبداﷲ بن حارث بن جزءؓ کی زیارت کی اور ان سے حدیث سن کر اس کی روایت کی۔مسند ابی حنیفہ،کتاب العلم میں ہے۔امام ابوحنیفہ ؒنے بیان کیا ہے۔ کہ میں ۸۰ ھ میں پیدا ہوا۔اور ۹۶ھ میں اپنے والد کے ساتھ حج کیا،اس وقت میں سولہ سال کا تھا۔جب مسجدحرام میں داخل ہواتو ایک حلقہء درس دیکھا،والدسے پوچھا کہ یہ کس کا حلقہ ہے؟انہوں نے بتایا کہ یہ صحابی رسول عبداﷲ بن حارث بن جزءؓ کا حلقہ ہے،یہ سن کر میں آگے بڑھا تو ان کو کہتے ہوئے سناکہ میں نے رسول اﷲﷺ کو فرماتے ہوئے سناہےکہ جو شخص اﷲکے دین میں تفقہ حاصل کرے گا،اﷲتعالیٰ اس کی مہمات کے لیے کافی ہوگا اور اس کوبے شان و گمان روزی دے گا۔
امام ابو حنیفہؒ اور علم فقہ و فتویٰ